پاکستانی نوجوانوں کی آرزوؤں کو سمندر نگل گیا

 

پاکستان میں مخدوش سیاسی و معاشی صورتحال کی وجہ سے لاکھوں نوجوان مستقبل سے مایوس ہوکر ملک سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان سے 9لاکھ سے زائد ہنر مند اور قابل افراد کے علاوہ مزدور طبقے کے لوگ بھی بہتر روزگار کی تلاش میں پاکستان سے باہر جاچکے ہیں۔

 

اوورسیز پاکستانی بلاشبہ پاکستان کی معیشت میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لیکن غیر قانونی راستوں سے بیرونِ ممالک جانے کی جستجو میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس معاشرے کیلئے کلنک کے ٹیکے سے کم نہیں۔

 

گزشتہ ہفتے یونان میں کشتی حادثے کے بعد غیر قانونی انخلاء کا راستہ روکنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے، رواں برس فروری میں بھی ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں اٹلی جانے کی خواہش دل میں لے کر جانے والے پاکستانیوں میں شامل پاکستان ویمنز ہاکی ٹیم کی نامور کھلاڑی شاہدہ رضا بھی اچھی زندگی کی آرزوؤں اور تمناؤں کے ساتھ سمندر کی تہہ میں ہمیشہ کیلئے سکون کی نیند سوگئی۔

 

پاکستان سے غیر قانونی طور پر شہریوں کے بیرون ِممالک کوچ کرنے کا سلسلہ بتدریج بڑھتا جارہا ہے اور متواتر حادثات کی وجہ سے پاکستان کیلئے مشکلات میں اضافہ بھی ممکن ہے کیونکہ پاکستان کئی عالمی قوانین کا حصہ ہے اور کئی قوانین پر دستخط بھی کرچکا ہے جس کے تحت غیر قانونی نقل و حمل اور انسانی اسمگلنگ کو روکنا ملک کے اہم فرائض میں شامل ہے۔

 

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمران ہمیشہ سانحات پر مذمت کے دو الفاظ اور پرچم کو سرنگوں کرکے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی برت لیتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بے یار و مدد گار لوگ یورپ میں پناہ کی تلاش میں سمندر کی بے رحم موجوں کا شکار ہوجاتے ہیں جس سے ہمارے ملک کی تذلیل ہوتی ہے اور پاکستان کا تشخص تباہ ہوجاتا ہے۔

 

یہ درست ہے کہ دنیا میں سالانہ 59 ملین کے قریب لوگ ہجرت کرتے ہیں جن میں 20 ملین کے قریب انتہائی قابل اور ہنر مند افراد کے علاوہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرونِ ممالک جانے والے لاکھوں افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔

 

پاکستان سے فرار کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے کیونکہ جب اپنے دیس میں روزگار کے مواقع مسدود ہوں، میرٹ کا تصور نہ ہو، سفارش کے بغیر کوئی نوکری نہ ملے، برابری کی بنیاد پر مواقع نہ ملیں، انسانی حقوق کی فراہمی کا فقدان ہو اور غریب کو مظالم کی چکی میں پیسا جائے ، جب ظلم و تعدی اورجبر و ستم کا سلسلہ دراز ہوجائے تو لوگ دلبرداشتہ ہوکراپنا سب کچھ بیچ کر ملک سے راہ ِ فرار اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

نوجوانوں کے بڑی تعداد میں بیرونِ ملک جانے کی کئی وجوہات ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ روزگار کی کمی ہے۔پاکستان میں تعلیم کو تو ویسے ہی اہمیت نہیں دی جاتی تو عالمی معیار کے مطابق ٹیکنیکل تعلیم کا تصور ہی محال ہے۔

 

انکم سپورٹ جیسے خیراتی کاموں کیلئے تو اربوں روپے مختص کردیے جاتے ہیں لیکن تعلیم اور روزگار کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاتا اس لئے نوجوان مستقبل سے مایوس ہوکر اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے کیلئے بھی تیار ہوجاتے ہیں۔

 

یونان میں المناک حادثے کے بعد ماؤں کی آنکھیں آنسو بہابہا کر پتھرا چکی ہیں، بہنیں اداس اورویران چہروں کے ساتھ بھائیوں کے راستوں میں پلکیں بچھائے بیٹھی ہیں، بوڑھے باپ نوجوان بیٹوں کی لاشوں کو دیکھنے کیلئے پہاڑ جیسا حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں اس وقت سوگ کی کیفیت نہ ہو۔

 

تعلیم و ہنر رکھنے والوں کیلئے تو قانونی طریقے سے باہر جانے کے کچھ اسباب پیدا ہوجاتے ہیں لیکن جن کے پاس تعلیم یا ہنر کی سند نہیں ہوتی وہ ایجنٹس کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جہاں سے لالچ اور زیست و موت کا ایک خوفناک کھیل شروع ہوتا ہے۔آگہی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ایجنٹس کا آسان شکار بن جاتے ہیں، ایجنٹ 25 لاکھ کےقریب رقم لے کر نوجوانوں کو موت کے حوالے کردیتے ہیں۔

 

لیبیا میں سفارتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران راقم الحروف نے مشاہدہ کیا کہ معمر قذافی کے دور میں لیبیا میں انسانی اسمگلنگ کی وباء کافی حد تک کنٹرول میں تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی انسانی اسمگلنگ میں ملوث مافیا مزید طاقتور اور مضبوط ہوتا گیا جن کو بااثر افراد کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

 

پاکستان اپنے محل و قوع اور چین سے قربت کی وجہ سے اس وقت دنیا کی نظروں میں ویسے بھی کھٹک رہا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کیلئے کبھی امریکا کی منتیں کرنی پڑرہی ہیں تو کبھی برطانیہ کے ترلے کیے جارہے ہیں لیکن آئی ایم ایف پاکستان کو سری لنکا جیسے حالات میں دھکیل کر پھر مدد کرنے کا خواہشمند ہے۔

 

یورپی یونین ماضی میں انسانی حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دیتی تھی لیکن یونان میں کشتی کے حادثے کے بعد کوسٹ گارڈز پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ 7 گھنٹے متاثرین کی کشتی پانی میں پھنسی رہی ۔

 

یونان کے کوسٹ گارڈز نے کشتی کو بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ دل دہلا دینے والی ویڈیو فوٹیجز سامنے آئی ہیں جن میں اپنی دلی تمناؤں کو دل میں رکھنے والے بلکتے چیختے اور زندگی کی بھیک مانگتے لوگ سیفٹی بوٹ کے ذریعے کوسٹ گارڈ سے مدد مانگتے تو کوسٹ گارڈ انہیں ڈنڈے مارتے اور گولیاں برساتے رہے جس کی وجہ سے ڈوبنے کے علاوہ کوسٹ گارڈ زکی فائرنگ سے بھی کئی لوگ ہلاک ہو گئے۔

 

یونان جانے کی کوشش میں جان گنوانے والوں کے غم میں یومِ سوگ کے بجائے ایسے حالات پیدا کرنے والوں اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے والوں کی نشاندہی ضروری ہے کیونکہ اس حادثے کیلئے ایجنٹس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جنہوں نے ملک میں روزگار کی راہ میں ایسی مشکلات پیدا کیں کہ نوجوان مایوس ہوکر زندگی داؤ پر لگانے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں۔

 

اس حادثے پر بھی ہم نے سبق سیکھ کر اپنے ملک میں نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع نہ پیدا کئے تو ہمارے نوجوان اسی طرح سمندروں کی بے رحم موجوں میں زندگیاں گنواتے رہیں گے اور اقوام عالم میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی رہے گی۔

 

حکومت پاکستان کا یہ فرض ہے کہ تمام بین الاقوامی معاہدوں کو بروئے کار لاتے ہوئے متعلقہ ممالک پر دباؤ ڈالے تاکہ غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے راستوں پر اس مکروہ فعل میں ملوث کارندوں کو بھی پکڑا جائے اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے او ای سی ڈی (آفس آف اکنامک کو آرڈی نیشن اینڈ ڈیولپمنٹ )کو متعلقہ ممالک میں منظم جرائم (آرگنائزڈ کرائم) کے سدباب کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔