لوٹے تو اچھے ہوتے ہیں

برصغیر پاک و ہند میں بیت الخلاء میں طہارت حاصل کرنے اور وضو خانہ میں وضو بنانےکے لئےلوٹے کا استعمال عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔ بیت الخلاء اور وضو خانہ میں علیحدہ علیحدہ لوٹوں کا استعمال ہوا کرتا تھا۔ماضی میں لوٹے مٹی کے ہوا کرتے تھے، پھر دھاتی لوٹے آئے اور آجکل پلاسٹک کے لوٹے عام ہیں۔ جدید فلش سسٹم آنے کے باوجود آج بھی بیت الخلاء میں طہارت حاصل کرنے کے لئے لوٹے کا استعمال عام ہے۔ کسی دور میں لوٹا طہارت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے موجودہ دور میں سیاسی وابستگیوں کو چھوڑنے والے یعنی ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جانے والے کے لئے لوٹا استعارہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آجکل کی نسل یقینی طور پر لوٹے کا نام سنتے ہی سب سے پہلے اپنے ذہنوں میں سیاستدانوں کا عکس قائم کرلیتی ہے۔ طہارت کے لئے استعمال ہونے والی چیزلوٹے کا نام سیاسی استعارہ کی بدولت اتنا بدنام ہوچکا ہے کہ نام سنتے ہی وحشت اورطنز ومزاح کی ملی جھلی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ویسے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان میں نجی شعبوں میں ملازمت پیشہ افراد جب ایک کمپنی کو چھوڑ کر دوسری کمپنی میں جاتے ہیں اور جیسے ہی سوشل میڈیا پر اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں تو فرینڈ لسٹ میں شامل تقریبا تمام افراد ماشاءاللہ، زبردست، بہترین ، شاباش، بیسٹ آف لک جیسے الفاظ سے مبارکبادیں دے رہے ہوتے ہیں۔آئے روز ہمیں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلاں جرنلسٹ اور فلاں اینکر پرسن نے فلاں نامور میڈیا ہاوس کو الوداع کہتے ہوئے دوسرے نامور میڈیا ہاوس کو جوائن کرلیا ہے۔ اور پھر یہی اینکر صاحبان اپنے شو میں مدعو پارٹی چھوڑنے والے سیاستدانوں کو لوٹا کہتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے دیکھائی نہیں دیتے۔ ایسا کیوں ہے کہ اک سیاست دان جب ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جاتا ہے تو اس شخص کو لوٹا لوٹا کہہ کر پکارا اور لکھا جاتا ہے لیکن ایک نوکری پیشہ شخص اک ادارے سے دوسرے ادارے میں جاتا ہے تو اس کو مبارکبادیں دی جاتی ہیں۔ کیا ایک پارٹی کو چھوڑ کر دوسری پارٹی میں چلے جانا کوئی جرم ہے؟ کوئی گناہ ہے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ مسئلہ صرف یہی ہے ہماری سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین نے پارٹی بدلنے کو خود گالی بنا دیا ہے۔ پارٹی چھوڑنے والے سیاستدان کو سابقہ پارٹی لوٹا کہہ کر پکارنا شروع کردیتی ہے، اور پارٹی چھوڑنے والا سیاستدان چُن چُن کر سابقہ پارٹی قائدین و جماعت کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیتے ہیں عین انہی لمحات میں برائے نام لوٹا کو خوش آمدید کہنے والی سیاسی پارٹی و قائدین کبھی باغی کا خطاب دیتے ہیں تو کبھی وکٹیں گرانے جیسے فخریہ کارنامے کا نام دیتے ہیں۔ درجہ بالا ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے والی مثال میں ایک اور بات کا اضافہ کرنا انتہائی ضروری ہے ایک ملازم پہلی کمپنی کو چھوڑنے سے پہلے نئی کمپنی میں ملازمت کے حصول کے لئے دئیے گئے انٹرویو میں نہ تو پہلی کمپنی کے خلاف کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی نئی کمپنی اختیار کرنے کے بعد یہ ملازم پرانی کمپنی کے خلاف زہر اگلنا شروع کرتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات انٹرویو کے دوران اپنی موجودہ کمپنی کے خلاف بات کرنے والے امیدوار کو انٹرویو میں فیل بھی کردیا جاتا ہے۔ میری نظر میں اس مثال سے تو یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ملازمتیں بدلنے والوں اور سیاسی پارٹی بدلنے والوں میں بنیادی فرق بھی یہی ہے کہ پہلے والا شخص اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے لیکن دوسرے والا شخص یعنی سیاستدان اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتا۔ ابھی حال ہی میں سیاسی وفاداریاں بدلنے والے سیاستدانوں کی نو مئی سے پہلے کے بیانات اور نو مئی کے بعد کے بیانات ملاحظہ فرمائیں تو 360 ڈگری مختلف بیانیے ملیں گے۔ کل تک یہی سیاستدان موجودہ اپوزیشن پارٹی چیئرمین کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملایا کرتے تھے اور سیاسی مخالفین کے خلاف انکی زبانیں ڈریگن کی طرح آگ برساتی دیکھائی دیتی تھیں اور آج انہی افراد کی زبانیں اپنے سابقہ پارٹی قائد کے خلاف ایسے ایسے رازوں سے پردے افشاں کرتی دیکھائی دیتی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ جس وقت پارٹی چھوڑنے والا پچھلی سیاسی قیادت کے خلاف 32 توپوں کی سلامی دے رہا ہوتا ہے عین اُسی وقت نئی پارٹی کا لیڈر چشم ما روشن دل ما شادکرتے ہوئے لوٹا نماسیاستدان کے گلے میں پارٹی کا پٹہ اور پارٹی کی ٹوپی ڈال کر خوش آمدید کہہ رہا ہوتا ہے۔میری نظر میں سب سے زیادہ قصور پارٹی قائدین کا ہے کیونکہ یہ قائدین شاید بھول جاتے ہیں کہ لوٹا نما سیاستدان پچھلی سیاسی قیادت کے خلاف جو زہر اُگل رہا ہے وقت آنے پر یہ انہیں بھی دن میں تارے ضرور دیکھائے گا۔ کاش ہمارے سیاستدان پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی لیڈرشپ کو دنیا کا آخری نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کاش ہمارے سیاستدان پارٹی میں رہتے ہوئے مخالفین کے خلاف زہر اُگلنے سے باز رہیں۔ کاش ہماری سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ سیاسی مخالفت کو حق و باطل کا معرکہ نہ بنایا کرے۔ کاش ہماے سیاستدان مخالف سیاسی لیڈرشپ کو چور ڈاکو غدار وطن جیسے خطابات دینے سے گریز کریں۔ کاش ہمارے سیاستدان پارٹی چھوڑنے کی وجہ صرف پارٹی پالیسی سے اختلاف کو بنایا کریں۔کاش ہمارے طرفین کے سیاستدان پارٹی چھوڑنے کے بعد اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیں۔ کاش ہماری سیاسی لیڈرشپ الیکٹبلزکے نام پر چُن چُن کر مفادپرست عناصر کو پارٹی میں خوش آمدید نہ کہا کریں۔ یقین مانیں اگر ایسا ہوجائے تو ہمارے سیاستدانوں کو کوئی لوٹا نہیں کہہ پائے گا۔ اور پھر طہارت بنانے والے شہ یعنی لوٹا کو کوئی بدنام بھی نہیں کر پائے گا ۔کیونکہ لوٹے تو اچھے ہوتے ہیں۔