سوچ

جب انسان سوچ لے کہ اسے زندگی میں آگے چل کر کیا کرنا ہے تو اس کے حساب سے اپنا لائحہ عمل تیار کرتا ہے ۔ ڈاکٹر بننے کے لئے میڈیکل کالج میں داخلہ لیتا ہے اور ڈاکٹری کے شعبہ سے متعلق کتا بیں خرید کر انہیں پڑھتا ہے ، اگر انجینئیر بننا ہے تو انجینئیرنگ کالج میں داخلہ لیتا ہے، انجینئیرنگ سے متعلق کتا بیں خرید کر ان کو پڑھتا ہے اسی طرح زندگی کے دیگر شعبوں میں اپنی منزل تلاش کرنے کی خاطر ان سے متعلق لوازمات کا بندوبست کرتا ہے ۔ اپنی منزل پہ نظر اور عملِ پیہم ہی اس کو کامیابی سے خوابوں کی تعبیر دکھا سکتا ہے ۔ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے نہ تو خواب ہوتے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کوئی منزل سوچ کر رکھی ہوتی ہے بس ہوا کے دوش پر اڑتے چلے جاتے ہیں اور جہاں وہ ان کو پٹخ دے اسی پہ قناعت کرتے ہیں، ایسے لوگوں کا انجام کبھی بہت شاندار بھی ہو جایا کرتا ہےجس کی وجہ تو معلوم نہیں ہو پاتی لیکن شاید فطرت سے مکمل ہم آہنگی ان کے روشن مستقبل کا سبب بن جاتی ہے لیکن انسان ایک لکھاری بن کر یہ سوچے کہ وہ حکومت وقت سے ٹکر لے اور قلم کی طاقت سے حکومت کا تختہ الٹ دے تو یہ ایک جذباتی نعرہ تو ہو سکتا ہے ، حقیقت سے اس کا قطعئی کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی کسی نے قلم کی طاقت سےانقلاب برپا نہیں کیا جب تک اس کے ساتھ مختلف اشکال میں دیگر طاقتیں شامل نہ ہوں کیانکہ بہر حال کسی مسلمہ طاقت سے ٹکرانے کے لئے اس سے زیادہ طاقت ہو گی تو مقابلہ ہو پائے گا ۔

انسانی تہذیب کے ابتدائی ارتقائی زمانے میں انسان کو محض زندہ رہنے کے لئے جسمانی طور پر طاقتور ہونا لازم ہؤا کرتا تھا تو آج کیوں نہیں؟ اپنے قبیلہ کےسردار کے انتخابی مقابلہ کے لئے اپنی جسمانی طاقت کے جوہر دکھانا پڑتے تھے، بالکل اسی طرح آج بھی جسمانی طور سے صحت مند ہونے کے ساتھ مالی طور پر اپنے مدِ مقابل سے زیادہ طاقتور ہونا لازم ہے کیونکہ انتخابی عمل سے گذرنے کے لئے آج کل کے حالات و روایات کے مطابق ایک کثیر دولت درکار ہوتی ہے ۔ ایک نامور لکھاری یا شاعر وہ انتظامات کیسے کر سکتا ہے جس کے لئے دولت درکار ہوتی ہے، انتخاب جتوانے والے آپ کے چاہنے والے ضرور ہونگے لیکن وہ آپکی مالی امداد کسی صورت نہیں کرتے ۔گویا آپ کی تمام تحاریر، شاعری اور نعرے کھوکھلے ثابت ہونگے۔ فطرت کے نظام سے ہم آہنگی کے زُمرے میں ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے منزل پالینا آتا ہے تو جسمانی و مالی حیثیت مضبوط ہونا بھی رائج الوقت سکّہ ہے جو حکمرانی کی منزل کے حصول کے خواب دیکھتا ہے۔رہا رائج الوقت قوانین کا معاملہ تو قوانین ہمیشہ حکمرانی میں شامل لوگ اپنے فائدے کے لئے بناتے ہیں تاکہ نظام چلانے میں ان کو آسانی ہو۔

اپنی حیثیت و مرتبے سے ہٹ کر منزل کے حصول کا سوچنا تو ہر انسان کا حق ہے لیکن عملی طور پر حصول کے لئے یقینِ محکم، اور عملِ پیہم کا ہونا لازم ہے اس کے بغیر ہمارا رویہ فطرت کے نظام سے غیر آہنگ ہوگا اور کامیابی مشکوک ہو جائیگی۔