اپنے آپ پر رحم کریں

والد کا عالمی دن سوشل میڈیا پر بڑی دھوم دھام سے منایا گیاوالد گھڑی میں سیکنڈ کی وہ سوئی ہے جسے ایک لمحہ کے لیے بھی چین نہیں وہ 24گھنٹے 7دن اور 12ماہ روزی روٹی کے لیے چکر کاٹتا رہتا ہے گھڑی میں تین سوئیاں ہوتی ہیں جن میں ایک سوئی سیکنڈ کے نام سے مشہور ہے یہ سیکنڈ والی سوئی اپنا وجود تو رکھتی ہے مگر اس کا ذکر نہیں کیا جاتاسب یہی کہتے ہیں کہ 12 بج کر12منٹ ہوگئے ہیں کبھی کسی نے یوں نہیں کہا کہ دس بج کر پندرہ منٹ اور چار سیکنڈ ہوئے ہیں جبکہ یہ سیکنڈ والی سوئی دونوں سے زیادہ محنت اور مشقت کرتی ہے اور ان دونوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے آج کا والد بھی اسی سوئی کی مانند ہے جو اپنے گھر والوں کو آگے لیکر چلتا ہے اسی سیکنڈ کی مانند ہماری عوام بھی ہے جو خو کماتی ہے محنت مزدوری کرتی ہے اور اپنے ٹیکسوں سے اپنے اوپر مسلط حکمرانوں کا پیٹ بھی پالتی ہے انہیں بیرون ممالک دورے بھی کرواتی ہے انکی عیاشیوں کے سامان بھی پیدا کرتی ہے انہیں ووٹ بھی دیتی ہے انہیں سپورٹ بھی کرتی ہے خود جھونپڑیوں میں رہ کر انکے بڑے بڑے محلات کے اخراجات بھی برداشت کرتی ہے لیکن ہیں سب سیکنڈ کی سوئی کی مانند جنہیں سکون اور چین لینے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اگر کسی نے ایسی گھڑی کہیں دیکھی ہوجس میں سیکنڈوں والی سوئی نہ ہو تو پھر ہم اس گھڑ ی کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں کیونکہ اس گھڑی کی خوبصورتی اور حسن اسی سوئی سے ہے ہماری جمہوریت کا حسن بھی عوام سے ہے جمہور ہو گی تو جمہوریت کہلائے گی لیکن عوام کو صرف کمانے والی مشین بنا کر حکمران خود دنیا بھر میں عیاشیاں کرتے ہیں ذکر میں کررہا تھا والد کے عالمی دن کے حوالہ سے کہ وہ بھی بیچارہ خود کو اپنے بچوں کی خاطر ہلکان کرلیتا ہے آج کے دور میں والد کو پیسہ کمانے کی مشین بنا لیا گیا ہے جو صبح سے شام تک نہ جانے کیا پاپڑ بیلتا ہے تب جاکر کہیں اسکے گھر کا چولہا جلتا ہے اور کچھ والدین اپنے بچوں کے سنہری مستقبل کے لیے اپنے آپ کو دکھوں میں ڈال کر بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں کچھ سمندر میں ڈوب جاتے ہیں تو کسی کو انسانوں کا سمندر نگل جاتا ہے ملکی حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ ایک عام انسان بھی پاکستان سے بھاگنے کی کوشش کررہا ہے اسکی سوچ ہے کہ اس نے تو اپنی ساری زندگی کھجل خواریوں میں گذار دی جو دکھ اس نے برداشت کیے وہ اسکے بچے نہ دیکھ سکیں اسی لیے تو کبھی کشتی کے حادثوں میں موت کو گلے لگا رہا ہے تو کبھی صبح سے شام تک سخت گرمی میں اپنے آپ کو قربان کررہا ہے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ غربت ختم کرنے کے دعویداروں نے اب عوام سے زندہ رہنے کا ھق بھی چھین لیا ہے ایک عام مزدور جو بڑی مشکل سے اپنے بچوں کی روٹی پوری کررہا ہے اسے بھی اس حکومت نے ننگا کردیا بجلی کے بلوں نے اس کا جینا مشکل بنا دیا ہے باقی بلوں کو تو چھوڑیں صرف بجلی کا بل اسکی پورے مہینے کی تنخواہ کھا جاتا ہے اور ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں وہ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انکی سانسوں پر بھی پابندی لگانا چاہتے ہیں بجٹ کے بعد آنے والے مہنگائی کے طوفان نے لوگوں کو گھروں سے بھاگنے پر مجبور کردیا اور مجبور خواتین اپنے گھروں میں موت کو گلے لگارہی ہیں انسانیت ابھی کل ہی کی بات ہے کہ گڑھ موڑ کی ایک رہائشی خاتون کا خاوند فوت ہوگیا کچھ دن تک اس خاتون نے خود تو بھوک برداشت کرلی لیکن اپنے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھوک برداشت نہ کرسکی پنکھے کے ساتھ رسی لٹکائی اور پھر خود بھی اسکے ساتھ لٹک گئی اسکا خاوند نہ جانے کیا کچھ کرکے انکے لیے روزی روٹی تلاش کرتا ہوگا آج کی ہماری خواتین کو شائد اس کا احساس نہیں ہوتا لیکن کسی مرد کے جانے کے بعد اس گھر پر مصیبتوں کے کیا کیا پہاڑ ٹوٹتے ہیں اسکا اندازہ اس خاتون کی خود کشی سے لگا لیں ہمارے معاشرے میں عورتیں مردوں کی قدر نہیں کرتیں وہ ان کے لیے مر جاتے ہیں وہ دھوپ اور گرمی برداشت کرتے ہیں ان کے آرام کے لیے عورتیں جس وقت ٹھنڈے گھروں میں سکون سے رہ رہی ہوتی ہیں مرد ایسے میں پچاس درجے کی گرمی میں سڑکوں پر ان کے لیے آسان زندگی تلاش کر رہے ہوتے ہیں اس لیے اپنے والدیں اور گھر والوں کی قدر کیا کیجیے رہی بات ہماری اور ہم تو ویسے بھی مسلمان ہیں اسلام ہمیں اپنے ہمسایوں سے اپنے گھر جیسے سلوک کا حکم دیتا ہے پھر بھی اگر بھوک سے بلکتے بچوں کی ماں خود کشی کرجائے تو پھر ایسے ہی حکمران ہم پر مسلط ہوتے رہیں گے جنکی وجہ سے عام انسان کبھی ڈوب کر مرجائیگا تو کبھی اسکے گھر والے خود سے پھانسی لے لیں گے ایک کشمیری رہنما شہزاد نازکی کا دکھ بھرا وٹس ایپ پیغام پڑھا تو آنکھیں بھیگ گئی وہ لکھتے ہیں کہ سمندر میں ڈوبنے والی یونانی کشتی میں ضلع کوٹلی کے تقریبآ 43 نوجوان شامل تھے جبکہ میں نے کھبی یہ نہیں سنا کہ کسی کشتی میں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے جوان بھی موجود تھے نام نہاد آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو معاشی بدحالی بے روزگاری غربت سے نجات حاصل کرنے کا واحد راستہ یورپ ہی نظر آتا ہے جہاں وہ اپنی اور اپنے گھروالوں اور اپنی نسلوں کی بقاء کا خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ پاکستان کے اندر بھی رزق کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں جہاں خود پاکستانی عوام بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کر رہی ہے نام نہاد خطے کے اندر کوئی معیاری ٹیکنیکل ادارے تک موجود نہیں ہیں جہاں نوجوان بہتر ہنر ہی سیکھ سکیں ان سب حالات کی ذمہ دار ریاست ہے جو بنیادی سہولیات دینے سے محروم ہے جبکہ پاکستان اور کشمیر پر قابض لوگوں کو اس بات کا کوئی احساس نہیں ہے کہ عوام کا کیا حشر ہورہا ہے ۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گاکہ پاکستان کے حکمرانوں کو اگر حکمرانی کرنی ہے تو عوام جو سیکنڈ کی سوئی بن کر گھوم رہی اس پر اتنا ہی وزن ڈالیں کہ وہ چلتی رہے کیونکہ وہ چلے گی تو آپ سکون سے عیاشیاں کرینگے جس دن وزن انکی اوقات سے بڑھ گیا اور سوئی کی برداشت سے باہر ہوگیا اور وہ ٹوٹ گئی تو پھر بچے گا کسی کا بھی کچھ نہیں سب بکھرے ہوئے تنکوں کی طرح نظر آئیں گے خدارا ملک پر نہیں عوام پر بھی نہیں اپنے آپ پر ہی رحم کرلیں ۔